سوال
کیا میں بطور طالب علم ایسے قرضے لے سکتا ہوں جو یونیورسٹیاں بینکوں اور عوامی مالی اداروں کے ساتھ معاہدے کے تحت فراہم کرتی ہیں، جہاں بینک طلباء کو ماہانہ اقساط میں بغیر کسی سود یا کمیشن کے قرض دیتے ہیں، جبکہ یونیورسٹی ان قرضوں پر عائد تمام فیسوں اور بینکی سود کی ذمہ داری اٹھاتی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ فوائد کی فروخت کے معاہدے ہیں، تو یہ شرعی بھی ہو سکتے ہیں اور سودی بھی۔ اگر ہم یہ یقین کر لیں کہ یونیورسٹی کا معاہدہ بینک کے ساتھ شرعی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، ورنہ نہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔