سوال
ایک عورت ایک یتیم کو دار الیتام سے پال رہی ہے، اور اسے ترقیاتی فنڈ سے نفقہ ملتا ہے، اور اس کی مربی اس کے لیے پیسے محفوظ رکھتی ہے جب تک وہ بڑا نہ ہو جائے، اور وہ اپنے پیسوں سے اس پر خرچ کرتی ہے، اور اپنے بھائیوں سے اس پر صدقہ دینے کی درخواست کرتی ہے، اور یتیم کی وجہ سے صدقات قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی، حالانکہ وہ کسی حد تک اچھی حالت میں ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر یتیم کے پاس نصاب سے زیادہ مال جمع ہو جائے تو اس کو زکات دینا جائز نہیں ہے، اور خرچ کے بہانے سے مال لینے کی اجازت دینا گناہ کا خوف رکھتا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔