سوال
میں اس مصیبت میں مبتلا ہوں: میں نے کہا: "ہر بار جب میں ایک عورت سے شادی کرتا ہوں تو وہ طلاق ہے"، اور میں نے تین طلاقوں کا ارادہ کیا، کیا میرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ میں نے "فتویٰ ہندی" کی کتاب میں یہ جملہ پڑھا: "اگر کوئی کہے: ہر عورت جس سے میں شادی کرتا ہوں وہ طلاق ہے، تو اس کی بیوی فضولی ہے اور اگر اس نے مہر وغیرہ دے دیا تو طلاق نہیں ہوگی"۔ دوسرا: اگر مجھے کسی نے فضولی کے طور پر شادی دی اور اس نے واقعی مہر وغیرہ دے دیا، پھر میں مہر دوں یا اس کے مطابق کچھ کروں.... کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ ایک لطیف حل ہے جس پر عمل کیا جا سکتا ہے جب تک کہ یہ ہماری فقہی کتابوں میں ذکر ہو، اور یہ اس مسئلے کا حل ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔