کھنکارنا اور مقتدی کا جواب دینا

سوال
کھنکارنے کا کون سا ضابطہ نماز کو باطل کرتا ہے، کیا اس میں منہ کھولنے کا کوئی تعلق ہے یا صرف کھنکارنے اور آواز سننے سے ہی نماز باطل ہو جاتی ہے؟ اور امام کے قول: 'أليس الله بأحكم الحاكمين' پر جواب دینے کا ضابطہ کیا ہے، اگر مقتدی کہے: 'بلى'، یا 'آمین' کہے بعد میں 'وانصرنا على القوم الكافرين'، اور اگر وہ نماز کے اندر بغیر کسی عذر کے کہے: 'أستغفر الله' تو کیا نماز باطل ہو جائے گی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر بغیر عذر کے کھانسی کے ساتھ نماز باطل ہو جاتی ہے، اور امام کے قول: «کیا اللہ حکمت والے حکام میں سے نہیں ہے» وغیرہ کا جواب دینا ناپسندیدہ ہے، اور نماز کے اندر استغفار کرنا نماز کی اذکار میں شامل نہیں ہے، اس لیے یہ بھی ناپسندیدہ ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں