سوال
ایک جوڑے نے طلاق پر اتفاق کیا، اور نکاح کے معاہدے میں مہریہ کی مقدار مکمل طور پر مقدم اور مؤخر 200 دینار ہے، اور یہ معاہدہ پندرہ سال پہلے ہوا تھا، تو کیا اب اسے 200 نقد دینا ہے، یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر؟ کیونکہ وقت بدل چکا ہے اور سونا پہلے 1000 لیرہ تھا، اور اب 20000 ہے۔
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: مہر شوہر کے ذمے ایک دین ہے، جسے وہ عقد کے دن کی قیمت کے مطابق ادا کرے گا؛ کیونکہ کرنسی میں ہونے والی تبدیلی بڑی ہے، اس لیے ادائیگی قیمت کے مطابق ہوگی نہ کہ اصل چیز کے مطابق، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔