سوال
اگر کوئی شخص جائیداد خرید کر اسے کرایہ پر دیتا ہے، جیسے کہ وہ رہائشی تجارتی عمارتیں خریدتا ہے اور انہیں کرایہ پر دیتا ہے، تو اس کا مقصد انہیں بیچنا نہیں ہے بلکہ یہ اس کی سرمایہ کاری کا طریقہ ہے۔ جب بھی وہ ان جائیدادوں سے کچھ رقم جمع کرتا ہے تو وہ ایک اور جائیداد خرید لیتا ہے، اور اس طرح اس کے پاس عام طور پر نقد رقم نہیں ہوتی جس پر وہ سال گزرنے کی زکات دے سکے، تو کیا اس پر زکات واجب ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکات خود املاک پر واجب نہیں ہے، بلکہ زکات اس مال پر واجب ہے جو املاک پیدا کرتی ہیں، اگر وہ نصاب تک پہنچ جائے اور دوسرے مالک کے پاس موجود مال کے ساتھ مل جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے، کیونکہ زکات تجارت کے مال پر ہے، کرایہ پر نہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے.