وقف کی تبدیلی کا حکم

سوال
ہمارے پاس یونیورسٹی کے نماز کے کمرے میں ایک لائبریری ہے جس میں وقف کی کتابیں موجود ہیں، لیکن یہ کتابیں پرانی ہیں اور کوئی بھی انہیں نہیں پڑھتا، تو کیا ان کتابوں کو لائبریری سے ہٹانے کا حکم ہے حالانکہ یہ وقف کی ہیں؟
جواب

میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے :وقف کی تبدیلی جائز ہے اگر یہ لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو اور ان کے مفادات کو پورا کرے، لیکن اس معاملے میں یہ کتابیں اپنی جگہ پر مفید ہیں، اگر ہم آج انہیں نہیں پڑھ رہے تو کل ضرور پڑھیں گے، یہ بعض لوگوں کے لیے مفید مراجع سمجھی جاتی ہیں، اور ہمیں کبھی نہ کبھی ان میں سے کسی مسئلے کا جائزہ لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، یا کوئی شخص انہیں پڑھنے کی خواہش رکھتا ہے، تو بہتر یہ ہے کہ پرانی کتابوں کو ان کی قیمت اور اہمیت کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے، اور دوسری کتابیں بھی لائی جائیں جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوں، اور اللہ بہتر جانتا ہے.

imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں