سوال
ایک خاندانی بحث میں حاضرین کہہ رہے تھے: کہ فلسطین کی زمینیں قوم کے لیے وقف ہیں اور انہیں بیچنا جائز نہیں، اور یہ کہ فلسطینی کے لیے بھی ان کا بیچنا باطل ہے، اس بات کی ہماری موجودہ دور میں کتنی درستگی ہے؟ تو فرض کریں کہ زمین آزاد ہو جائے ان شاء اللہ، تو ان زمینوں کا کیا ہوگا جو فلسطینی (مسلم یا نصرانی) نے خریدی ہیں یا کسی یہودی نے فلسطین میں خریدی ہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: مشہور ہے کہ فلسطین کی عمومی زمینیں وقف ہیں، اور وقف کو بیچا نہیں جا سکتا، تو جو چیز اس میں سے دستاویزات کے ذریعے وقف ثابت ہو جائے اس پر یہ حکم لاگو ہوگا، اور اس میں بیچنا باطل ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔