سوال
شافعیوں کے نزدیک وقت کی نماز کا حرام ہونا، مکلف تنگ وقت کی وجہ سے جو وضو یا غسل کے لیے کافی نہیں ہے، تیمم کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، پھر جب وقت وسیع ہو تو اسے دوبارہ پڑھتا ہے، کیا یہ حکم حنفیوں کے ہاں بھی موجود ہے؟ اور اس کی نوعیت کیا ہے؟ اور اگر وقت تنگ ہو تو مکلف کو کس طرح عمل کرنا چاہیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: حنفیہ کے ایک امام امام زفر کے نزدیک، وقت اور نماز کی تنگی کی صورت میں تیمم کرنا جائز ہے، لیکن اس پر فتویٰ نہیں دیا جاتا، اور مکلف پر وضو کرنا اور پھر نماز پڑھنا واجب ہے، چاہے وقت گزر جانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔