سوال
میری خالہ نے اپنی زمین کا ایک حصہ بچوں کے لیے باغ بنانے کی وصیت کی ہے، اور یہ زمین سڑک سے دور ہے جس کے لیے ورثے میں ملی زمین سے طویل راستے کی ضرورت ہے، تو کیا ورثاء کی رضا مندی سے کسی اور جگہ کا انتخاب کرنا جائز ہے، چاہے وہ جگہ منتخب کردہ قطعے سے بڑی ہو، تاکہ باغ تک پہنچنے میں آسانی ہو اور ورثاء کے لیے سہولت ہو؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس کی موت کے بعد اس کا مال ورثاء کا ہوتا ہے، لہذا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس میں جو مناسب سمجھیں کریں، اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ روضہ کے لیے دوسری زمین عطیہ کریں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔