سوال
ایک آدمی وفات پا گیا اور اس کے پاس کچھ پیسے تھے، وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ یہ پیسے میری چھوٹی بیٹیوں کے لیے ہیں، وہ دو بیویوں کا شوہر تھا: پہلی بیوی وفات پا چکی ہے، اور اس کی تین چھوٹی بیٹیاں ہیں، جبکہ دوسری بیوی کے سات بڑی بیٹیاں ہیں جو شادی شدہ ہیں اور چار بیٹے ہیں، بیٹے اپنی چھوٹی بہنوں کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں، جبکہ بڑی بیٹیاں اعتراض کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی حالت بہترین ہے، اس صورت میں تقسیم کیسے ہوگی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: بڑی بیٹیوں کو وراثت کا حصہ دیا جائے گا؛ کیونکہ یہ ان کا شرعی حق ہے، اور باقی چھوٹی بیٹیوں کے لیے ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔