سوال
میرے والد 1998 میں وفات پا گئے اور وراثت کی تقسیم نہیں ہوئی، میرے بڑے بھائی نے صرف اپنی وراثت وصول کی جو اس وقت 30 ہزار ڈالر کے برابر تھی، اور اب وراثت کو سب کے درمیان تقسیم کرنے کا ارادہ ہے اور ہم لڑکیاں اپنے بڑے بھائی کی وراثت کا نصف حصہ وصول کریں گی، کیا یہ جائز ہے، یا اس رقم کی قیمت کا اندازہ اس وقت کے مطابق لگانا چاہیے؛ کیونکہ اب کی رقم اس وقت کی قیمت کے برابر نہیں ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: آپ کا بڑا بھائی اس وقت جو کچھ لے چکا ہے، اس کی وجہ سے وہ وراثت سے باہر ہو چکا ہے، اور اب وراثت تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے گی سوائے بڑے بھائی کے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔