سوال
رمضان کے مہینے میں ایسے امام کے ساتھ وتر جماعت میں شامل نہ ہونے کا کیا حکم ہے جو حنفی مکتب فکر سے مختلف طریقے سے نماز پڑھتا ہے؟ اور اس امام کی منفرد رکعت میں اقتداء کرنے والے کا کیا حکم ہے، اور امام کے سلام کے بعد شفع مکمل کرنے کے لئے منفرد رکعت ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں اللہ کی مدد سے کہتا ہوں: امام کے پیچھے دو رکعت نفل کی نیت سے پڑھی جائیں گی، اور تیسری رکعت امام کے ساتھ اکیلے نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ وہ اکیلا وتر پڑھے گا جیسا کہ اس کا مذہب ہے، اور یہ ناپسندیدہ ہے کہ وہ اکیلی رکعت میں امام کی اقتداء کرے پھر امام سے الگ ہو کر باقی وتر کی رکعتیں پڑھے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔