نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
فروخت اور خریداری میں اگر خریدار چاہے کہ وہ فروخت کی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھے، کیا واٹس ایپ کے ذریعے براہ راست رابطہ آنکھوں سے دیکھنے کے مترادف سمجھا جائے گا، یا یہ وکیل کے احکام پر لاگو ہوگا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر رابطہ آواز اور تصویر کے ساتھ ہو تو یہ ایک فیصلہ کن مجلس ہوگی، اور اس میں نظر کو آنکھ کی نظر کی طرح معتبر سمجھا جائے گا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔