نماز کی نیت کے بغیر تلفظ کرنے کا حکم

سوال
اگر نماز پڑھنے والا اس وقت کے علاوہ تلفظ کرے جس میں وہ نماز ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے، جیسے کہ وہ عصر کا تلفظ کرے جبکہ اس نے دل میں ظہر کی نیت کی ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: دل کی نیت ہی اہمیت رکھتی ہے، نہ کہ زبان کی ادائیگی، اگر دل سے نماز کی نیت کی تو وہ صحیح ہے، چاہے زبان سے کچھ اور کہا ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں