سوال
انسان روزہ رکھتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا، اس کا روزہ قبول نہیں ہے، بلکہ وہ کافر ہے جیسے کہ اگر کوئی نصرانی روزہ رکھے اور نماز نہ پڑھے؟ کیا یہ بات صحیح ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ بات صحیح نہیں ہے کہ نماز چھوڑنا بڑی سستی اور عظیم گناہ ہے، لیکن یہ انسان کو کفر کی طرف نہیں لے جاتی، اور جو روزہ دار نماز نہیں پڑھتا اس کا روزہ صحیح ہے، کیونکہ روزہ ایک مکمل عبادت ہے اور خاص فرض ہے جو کسی دوسرے فرض پر منحصر نہیں ہے، لیکن قبولیت تقویٰ پر منحصر ہے، اور اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.