سوال
ایک خاتون بہت سے نفلی روزے رکھتی ہیں، اور انہیں یقین نہیں ہے کہ ان پر قضا روزے ہیں یا نہیں، تو انہیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا انہیں نفلی روزوں کی نیت قضا کے لیے کرنی چاہیے، یا صرف نفلی روزوں کی نیت کرنی چاہیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس پر قضا ہے، تو اس کا اندازہ لگانا اور اس کا روزہ رکھنا اس پر واجب ہے، یہاں تک کہ اس کی ذمہ داری ختم ہو جائے، اور اسے نفل پر مقدم رکھنا چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔