سوال
نفلی روزوں جیسے کہ ایام بیض اور پیر اور جمعرات کے روزوں میں نفس کو مشقت دینے کا کیا حکم ہے؟ نفس کو مشقت دینے کا مطلب یہ ہے کہ شخص جسمانی طور پر تھکا ہوا ہے اور مختلف وجوہات کی بنا پر اسے تھکن محسوس ہو رہی ہے، بلکہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ بخار میں مبتلا ہے اور اس کے باوجود غیر فرض روزے رکھنے پر اصرار کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: نفل روزے رکھنا اور ان کی کثرت کرنا مستحب ہے اگر اس سے کوئی نقصان نہ ہو، اگر روزہ رکھنے سے نقصان ہو تو یہ ناپسندیدہ ہے، اور اس کو نقصان کی تصدیق اہلِ تخصص کے اقوال سے کرنی چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔