سوال
سائلہ کہتی ہیں: انہوں نے چار سال پہلے بچے کو جنم دیا، اور آج تک انہیں روزانہ خون آتا ہے، اور وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتی ہیں، تو اس صورت میں ان کی نماز کا کیا حکم ہے، اور اس حالت میں جماع کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: جس کے پاس اس طرح کا مسلسل خون ہو، وہ عذر والی ہوتی ہے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرتی ہے، اور اس کا وضو وقت گزرنے سے باطل ہو جاتا ہے، اور وہ اپنی پرانی عادت کے مطابق حائض ہوتی ہے اور اپنی پرانی عادت کے مطابق طاہر ہوتی ہے، تو اگر اس کی پرانی عادت پانچ دن کی حيض ہو، اور بیس دن طہارت کے، تو مسلسل خون کی حالت میں بھی اس کا یہی حال ہوگا، اور وہ ان پانچ دنوں کے علاوہ اپنے شوہر کے لیے حلال ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.