سوال
بریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «جس نے نرد کھیلا، گویا اس نے اپنے ہاتھ کو سور کے گوشت اور خون میں رنگ دیا»، کیا اس حدیث کی وضاحت ممکن ہے اور نرد کھیلنے کا حکم بیان کیا جائے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ ایک کھیل ہے جس کا مقصد تفریح اور وقت کا ضیاع ہے، اور اس سے فقہی قاعدہ حاصل ہوتا ہے: ہر لہو حرام ہے، لہذا ہر قسم کے کھیل جو صرف لہو کے لیے ہیں، اس حدیث کی گواہی سے حرام ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔