سوال
ایک خاتون نے اللہ کے لیے نذر مانی کہ اگر اس کا بیٹا کامیاب ہو جائے تو وہ (میلاد) کرے گی، حالانکہ اسے میلاد کی حقیقت کا علم نہیں ہے، اور اب اس کا بیٹا کامیاب ہو گیا ہے، لیکن اس کے ارد گرد کے لوگ اسے کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے، تو اسے نذر کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: نذر کے ذریعے میلاد منانا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ قربات میں سے ہے، اور نذر میں وہ چیز ضروری ہے جو کسی مقصود قربت کی جنس میں ہو جیسے نماز یا روزہ، اور میلاد منانا مستحب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں اکٹھا ہونا، اس میں کچھ خیرات شامل ہوتی ہیں جیسے قرآن سننا، نصیحت، نغمے اور کھانا وغیرہ، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔