نذر اعتكاف شهر غیر معین

سوال
ما حکم من نذر اعتکاف شهر غیر معین؟
جواب

میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی مہینے کا اعتکاف کرے، رات اور دن میں مسلسل، اس کے برعکس اگر اس نے ایک مہینے کے روزے کا نذر کیا ہو اور تسلسل کی شرط نہ رکھی ہو، تو اسے اختیار ہے کہ چاہے تو روزے کو تقسیم کرے اور چاہے تو مسلسل رکھے، اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اعتکاف رات اور دن میں جاری رہتا ہے، اس لیے یہ اجزاء کے لحاظ سے متصل ہے، اور جو چیز اجزاء کے لحاظ سے متصل ہو، اس کو تقسیم کرنا جائز نہیں ہے مگر اس پر صراحت کی جائے، اس کے برعکس روزہ، کیونکہ یہ رات میں نہیں ہوتا، اس لیے یہ متفرق ہے، اور جو چیز اپنے اندر متفرق ہو، اس میں وصال کرنا واجب نہیں ہے مگر اس پر صراحت کی جائے، دیکھیے: الہدیہ العلائیہ ص185-186، اور اللہ بہتر جانتا ہے.

imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں