سوال
ایسی رسائل کے بارے میں دین کا کیا حکم ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((جو اس فضیلت والے مہینے میں احباب کو مبارک باد دے گا، اس پر آگ حرام ہے)) ان شاء اللہ میں اس مہینے میں پہلے مبارک باد دینے والوں میں ہوں، اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا، کیا آپ یہ پیغام اپنے احباب کو بھیجیں گے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: تمام مہینے اللہ تعالیٰ کے دن ہیں، اس لیے ان میں سے کسی ایک پر مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، خاص طور پر اگر لوگوں کا یہ معمول ہو، لیکن یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہے اور دین میں لوگوں کو رغبت دلانے کے لیے احادیث کی تالیف میں جھوٹ بولنا حرام ہے، اور مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی پیغام کو اس کے مضمون کی صحت کی تصدیق کیے بغیر نہ پہنچائے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔