سوال
اگر کوئی شخص فوت ہو گیا ہو، اور اس پر رمضان کے کچھ روزے قضا ہوں، اور اس کی بیوی کو ان دنوں کا علم ہو جن میں اس کے شوہر نے رمضان میں افطار کیا، تو کیا اس پر پہلے اپنے شوہر کے روزے قضا کرنا لازم ہے، پھر اپنے افطار کیے ہوئے روزے قضا کرنا؟ یا پہلے اسے اپنے رمضان کے روزے قضا کرنے چاہئیں، پھر اپنے شوہر کے افطار کیے ہوئے روزے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: کسی کو کسی کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، اور اس کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے، اور یہ تقریباً دو اردنی دینار کے برابر ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔