سوال
میرے والد نے اپنی والدہ کے پاس بچت کے طور پر ایک رقم رکھی، اور میری والدہ نے اس رقم کا ایک حصہ لیا بغیر انہیں بتائے، اور اس میں سے کچھ خرچ کر دیا اور باقی بچ گیا، پھر میرے والد کا انتقال ہوگیا، کیا یہ پیسہ جو انہوں نے لیا وراثت ہے اور انہیں اسے واپس کرنا چاہیے، حالانکہ انہوں نے انتقال سے پہلے اس میں سے کچھ خرچ کر دیا، یا یہ پیسہ ان کا حق ہے کیونکہ انہوں نے یہ زندگی میں لیا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: آپ کی والدہ کے لیے والد کی اجازت کے بغیر پیسے لینا جائز نہیں تھا، اور اس پر مؤاخذہ ہے، لیکن یہ وراثت میں شمار نہیں ہوتا، اور اس کا واپس کرنا اس پر لازم نہیں ہے؛ کیونکہ اس نے اسے اپنی زندگی کی ضروریات میں خرچ کیا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔