سوال
ایک شخص نے مسجد کی تعمیر کے لیے مالی رقم عطیہ کی، اور مسجد کی کمیٹی نے اس عطیہ کردہ رقم کو کچھ عرصے تک اپنے پاس رکھا، کیا اس عطیہ کرنے والے پر اس رقم پر زکات نکالنا واجب ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس رقم کی زکوة دینا ضروری نہیں ہے جو اس نے مسجد کی تعمیر کے لیے دی ہے؛ کیونکہ یہ اس کی ملکیت سے نکل گئی ہے، اور اس کا ہاتھ اس پر امانت کی طرح ہے، اور زکوة صرف اس مال پر واجب ہوتی ہے جو کسی مکلف کی ملکیت ہو، اور یہ مال مسجد کے لیے وقف ہو گیا ہے، اس میں زکوة نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔