سوال
ایک نوجوان نے میرے والد سے میری شادی کی درخواست کی اور میرے والد نے اس سے میری شادی پر رضا مندی ظاہر کی، اور میں نے بھی اس سے شادی پر رضا مندی ظاہر کی، اور فاتحہ کی تلاوت ہوئی؛ کیونکہ یہ ہمارے ملک میں ایک روایت اور رواج ہے، اور نکاح میں تاخیر ہوئی ہے، کیا میں اس نوجوان کے ساتھ ادب اور حیا کے دائرے میں بیٹھ سکتی ہوں یا اس سے بات کر سکتی ہوں تاکہ میں اس سے مزید واقف ہو سکوں یا اس کے ساتھ موبائل فون پر بات کر سکتی ہوں، یا کیا یہ نکاح ہونے تک درست نہیں ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: عقد سے پہلے خطیب کے ساتھ بیٹھنا جائز ہے بغیر خلوت، بغیر زینت، بغیر عورۃ کے کھولنے، اور بغیر مصافحہ کے، اور اسی طرح اس کے ساتھ ٹیلیفون پر مکمل ادب کے ساتھ بات کرنا بھی جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔