سوال
مجھے پیسے کی ضرورت تھی، اس لیے میں نے ایک ہول سیل تاجر سے 200 دینار میں قسط پر موبائل کارڈ خریدے، کہ میں انہیں دو ماہ بعد 260 دینار میں چکاؤں گی، اور میں نے انہیں ایک دوسرے تاجر کو 196 دینار میں بیچ دیا۔ میں نے اس میں نقصان اٹھایا، لیکن میں نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ مجھے فوری طور پر نقد پیسے مل سکیں۔ کیا اس معاملے میں سود یا حرام ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: جب تک کہ خریداری کسی دوسرے شخص سے کی گئی ہو جس سے آپ نے خریدا ہے، یہ جائز ہے، اور اس میں کوئی سود نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔