سوال
ایک شخص نے صفوہ اسلامی بینک سے تعمیر کے لیے قرض لینے کی درخواست کی، تو بینک نے اسے بتایا کہ وہ اسے "بیس ہزار پانچ سو دینار" کا قرض دیں گے تاکہ وہ اس رقم سے حصص خرید سکے، پھر وہ ان حصص کو فروخت کے لیے پیش کریں گے، یہ حصص بیس ہزار پانچ سو سے منافع بھی دے سکتے ہیں اور نقصان بھی، اور جب انہیں کسی تیسرے فریق کو بیچا جائے گا تو وہ اس شخص کو ان حصص کی فروخت کی رقم نقد دیں گے، تو کیا یہ قرض اس صورت میں شرعاً جائز ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ قرض شرعاً صحیح ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.