قرض کی زکات کا احتساب

سوال
میرے پاس ایک رقم ہے جس پر ایک سال گزر چکا ہے اور یہ نصاب سے زیادہ ہے، لیکن میں نے ایک رقم قرض لی ہوئی ہے، کیا قرض کی مقدار کو میرے پاس موجود کل رقم سے نکال کر باقی رقم پر زکات کا حساب کیا جائے گا یا نہیں؟ مثال کے طور پر؛ میرے پاس بینک میں ٥ ہزار ہیں، اور میں نے ٣ ہزار دینار کا قرض لیا ہے، اور اس کی قسطیں ماہانہ ١٠٠ دینار کی ادائیگی پر ہیں، کیا قرض کی مقدار کو کل رقم سے نکالا جائے گا؟ یا قسطوں کو نکالا جائے گا؟ یا پوری رقم پر زکات ادا کی جائے گی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: دین کی مقدار کم ہوتی ہے اور جو باقی رہتا ہے اس کی زکوة دی جاتی ہے اگر وہ نصاب تک پہنچ جائے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں