سوال
میں اردن کے بینک سے تعلیمی قرض لینا چاہتا ہوں تاکہ یونیورسٹی کی فیس ادا کر سکوں، یہ قرض بغیر سود کے ہے اور سال بھر میں ادا کیا جائے گا، لیکن ایک شرط ہے کہ اگر میں ماہانہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر کروں تو مجھ پر دس دینار کا جرمانہ عائد ہوگا، جبکہ اگر میں مقررہ وقت پر ادائیگی کروں تو بالکل بھی کوئی جرمانہ نہیں ہے، کیا یہ جائز ہے یا یہ ربا شمار ہوتا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: قرضوں میں جرمانہ شرط جائز نہیں ہے، یہ ایک قسم کا سود ہے، اس معاہدے کی اجازت نہیں جب تک کہ وہ اس جرمانہ شرط کو چھوڑ نہ دیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔