سوال
ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ ہم رمضان کے مہینے میں قرآن کے حافظ کو مسجد میں لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو تراویح کی نماز پڑھائے تاکہ قرآن ختم ہو سکے، اور ہمارے لوگوں کو رمضان کے مہینے میں زکات دینا پسند ہے، لہذا وہ اپنی زکات اس حافظ کو دیتے ہیں چاہے اس کی مالی حالت کیسی بھی ہو، اور حافظ قرآن ایک طالب علم بھی ہو سکتا ہے اور ایک تاجر بھی، تو کیا اس کے لیے زکات قبول کرنا جائز ہے، اور کیا لوگوں پر زکات واجب نہیں رہی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر وہ فقیر ہے یا طالب علم ہے تو اس کو زکات دینا جائز ہے، اور اگر وہ امیر ہے تو لوگوں کا اس کو زکات دینا صحیح نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔