سوال
کیا وہ شخص جو آواز کی تاروں میں سوزش کا شکار ہے، قرآن کو صرف اپنی آنکھوں اور دل سے پڑھ سکتا ہے بغیر زبان کے؛ کیونکہ ہونٹوں کو ہلانے اور آواز کے ذریعے ہوا کا داخل ہونا انہیں تھکا دیتا ہے؟ اور کیا اگر عورت اپنے گھر میں سورج نکلنے تک اپنی جگہ پر بیٹھے تو کیا اسے حج اور عمرے کا اجر ملتا ہے، یا کیا اس کے لئے مسجد میں بیٹھنا ضروری ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زبان سے پڑھنا یا جتنا ممکن ہو، صرف گزرنا جائز ہے، اور اجر کا اعتبار غور و فکر کرنے پر ہے نہ کہ صرف تلفظ پر، اور عورت کو گھر میں ایک جگہ بنانی چاہیے چاہے وہ قالین کے سائز کی ہو جسے مسجد کہا جائے تاکہ وہ وہاں اعتکاف کرے اور تسبیح کے لیے بیٹھے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.