سوال
میں نے پڑھا کہ ابو حنیفہ حیلہ کو جائز سمجھتے ہیں اور یہ باب شفعہ میں ہے، تو میں کیسے جانوں کہ مجھے حیلہ اختیار کرنی چاہیے یا دھوکہ دینا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: انہوں نے خاص طور پر باب شفعہ میں حیلہ کو جائز قرار دیا ہے؛ کیونکہ اس میں کسی کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جبکہ باب زکات میں یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ فقیر کا حق کھانا ہے، اور اس طرح حیلہ جائز ہے جو حرام کو حلال کرتی ہے اور کسی مسلمان کا حق ضائع نہیں کرتی، جبکہ دھوکہ دینا حرام ہے؛ کیونکہ یہ جھوٹ اور چالاکی ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.