سوال
کیا جس کے پاس رہنے کے لیے ایک گھر ہے، اور اس کے پاس کوئی مستقل روزگار نہیں ہے، اسے فطر کی صدقہ دینا ضروری ہے؟ اور کیا یہ محرومیت کا نصاب ہے جو اسے فطر کی صدقہ یا زکات لینے سے روکتا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکوة الفطر ہر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس نصاب حرمان ہو، یعنی «100» گرام سونے کا جو اس کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو، اور اسی طرح اس مقدار نصاب کے مالک ہونے کی صورت میں زکوة اور صدقہ لینے سے بھی منع ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.