فطر کی زکات کا دوسروں کے لیے عطیہ

سوال
ایک شامی خاتون جو ترکی میں رہتی ہیں، ان کے پڑوسی انہیں فطر کی زکات دیتے ہیں اور وہ اسے لے کر اپنے بیٹے کے بچوں کو دیتی ہیں، تو اس کے عمل کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: جو شخص نصابِ حرمان کا مالک ہے، وہ زکات کا مستحق نہیں ہے، پس جو شخص زکات کا نصاب رکھتا ہے یعنی (100) گرام سونے یا اس کی قیمت جو اس کی اصل ضرورت سے زیادہ ہو، جیسے کہ اس کا گھر، اپارٹمنٹ، فرنیچر، گاڑی وغیرہ، تو اس کے لیے زکات کا مال لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر اس خاتون کے پوتے پوتیاں نصابِ حرمان کے مالک نہیں ہیں، تو ان کے لیے زکات لینا جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں