فتاویٰ کی نقل اور ان کی اشاعت کا حکم

سوال
کیا کسی بھی شخص کے لیے شرعی علوم کو خود سیکھنا یا حفظ کی مراکز میں سیکھنا جائز ہے، اور کیا وہ شیوخ کے فتاویٰ کو نقل کر کے سوشل میڈیا پر نشر کر سکتا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر یہ جانتا ہے کہ مفتی ان میں سے کسی ایک چار مذاہب میں صریحاً یا تخریجاً فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ نقل کرنا جائز ہے، اور اگر وہ اپنی طرف سے بغیر کسی مذہبی حوالہ کے صرف اپنی خواہش کے مطابق فتویٰ دیتا ہے، اور اس میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن اور سنت سے لیتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ شرعی احکام نہیں ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں