سوال
ایک خاتون کا شوہر نے اسے دو بار طلاق دی جبکہ وہ غضب میں تھا، اور پہلی اور دوسری طلاق کے درمیان پانچ سال کا وقفہ ہے، اور اب اس نے تیسری بار اسے طلاق دی جبکہ وہ غضب میں ہے، کیا اس کی طلاق واقع ہوتی ہے؟ کیا شوہر کو بیوی کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر اس کا غصہ اس مرحلے تک پہنچ جائے جہاں اس کے افعال معمول سے باہر نکل جائیں جیسے گالی دینا، برا بھلا کہنا، مارنا اور توڑ پھوڑ کرنا، تو طلاق واقع نہیں ہوتی، اور اس کو مفتی سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وہ واقعہ کی حقیقت کو جان سکے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.