غضب کی حالت میں طلاق کا حکم

سوال
میرے شوہر بہت غصے میں تھے، اور کام سے تھکے ہوئے واپس آئے، ہم میں اختلاف ہوا تو انہوں نے مجھے طلاق دے دی، کیا طلاق واقع ہوتی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر اس کا غصہ اس حالت تک پہنچ جائے کہ اس کے افعال معمول سے باہر ہو جائیں جیسے مارنا، گالی دینا، اور توڑ پھوڑ کرنا تو طلاق واقع نہیں ہوتی، ورنہ طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور آپ کو مفتی سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ صورت حال کی تصدیق ہو سکے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں