سوال
ایک عورت نے اپنی والدہ کے ساتھ ٢٠٠٠ دینار رکھے ہیں کہ اگر اللہ نے ان کی والدہ کو وفات دے دی تو یہ رقم فقراء اور اپنی بہنوں میں تقسیم کرے، بچوں میں نہیں۔ کیا وہ اپنی والدہ کے کہنے پر عمل کرے گی، یا یہ رقم ورثہ سمجھی جائے گی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر یہ رقم آپ کی وراثت کے ایک تہائی حصے سے نکالی جائے تو اسے غریبوں کو دینا چاہیے؛ کیونکہ یہ وصیت ہے، اور وصیت ایک تہائی سے نکالی جاتی ہے؛ کیونکہ ورثاء کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔