نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
اگر ایک آدمی کے پاس ایک گھر ہے، کیا وہ غارمین میں شمار ہوگا اگر وہ ایک لاکھ چالیس ہزار دینار کا مقروض ہو، اور اس پر تیرہ ہزار دینار کا ٹیکس واجب الادا ہو؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: گھر پر زکات نہیں ہے، اور اگر اس کے پاس قرض سے زیادہ مال ہے جو زکات کے نصاب کے برابر ہے تو اس پر زکات واجب ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔