سوال
ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑے میں ہے اور اپنے گھر والوں کے پاس چھ مہینے رہی، اور ساتویں مہینے طلاق ہوئی، اور اس کی طلاق کو ایک مہینہ اور نصف ہو چکا ہے، اور اس وقت ایک رشتہ آیا ہے، تو کیا اس صورت میں اس کا خطبہ جائز ہے، یا اس پر مطلقہ کی عدت ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس کی خطبت حرام ہے، چاہے واضح طور پر ہو یا اشارے سے، جب تک کہ وہ عدت مکمل نہ کر لے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔