سوال
کیا علاج کے لیے عورت کا پردہ کھولنے کی اجازت تدریجاً ہوتی ہے، اگر مسلمان ڈاکٹر نہ ملے تو نصرانی ڈاکٹر کے پاس جائے، اور اگر وہ بھی نہ ملے تو مسلمان ڈاکٹر کے پاس جائے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ڈاکٹر کے پاس نہ جاؤ جب تک کہ مسلمان ڈاکٹر نہ ملے، اور عورۃ کو صرف اتنا ہی کھولو جتنا کہ محارم کی موجودگی میں ضروری ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔