نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھے، جہاں اس کے ساتھ صرف ڈرائیور ہو، جو اس کے لیے غیر مرد ہے، اور اس کے ساتھ اس کے چھوٹے بچے بھی ہوں؟ کیا یہ تنہائی شمار ہوگی؟ کیا اس پر یہ حدیث لاگو ہوتی ہے: «کسی مرد کا کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونا، سوائے اس کے کہ شیطان ان میں سے تیسرا ہوتا ہے»؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: شہر اور عوامی سڑکوں پر تمام لوگوں کے سامنے غیر ملکی ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا خلوت نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔