سوال
میں نے ایک بار پڑھا تھا کہ بیوی کا علاج چاہے وہ بیماری ہو یا زچگی کے اخراجات وغیرہ شوہر پر واجب نفقہ میں شامل نہیں ہیں، بلکہ یہ اس کی اچھی سلوک کی وجہ سے فراہم کی جاتی ہیں، کیا یہ فتویٰ صحیح ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ فتویٰ دین کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے، بیوی کا علاج شوہر پر واجب ہے، لیکن عدالت کے لحاظ سے یہ لازم نہیں ہے؛ کیونکہ یہ غیر منضبط ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.