سوال
ایک عورت نے فیس بک پر کسی شخص سے سنا کہ حیض اور نفاس میں عورت روزہ رکھ سکتی ہے اور افطار نہیں کر سکتی، اور اگر وہ افطار کرے تو وہ گناہگار ہوتی ہے، ہم اسے کیسے قائل کریں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے جبکہ وہ اس کے لیے دلیل مانگ رہی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ مسئلہ فقہاء کے درمیان افطار کے وجوب پر متفق علیہ ہے، اور اس میں صحیح احادیث آئی ہیں، اور ہر ایک کی بات نہیں سنی جانی چاہیے جب تک کہ وہ معروف عالم نہ ہو اور جو کچھ کہتا ہے وہ کسی معتبر فقہی مکتب سے نقل کرتا ہو، یہ دین ہے، اور اس کے ساتھ کھیلنا جائز نہیں ہے کسی بے وقوف کے ہاتھوں، اور اللہ بہتر جانتا ہے.