سوال
ایک خاتون نے غریبوں میں مکمل عقیقہ تقسیم کرنے کا ارادہ کیا، اور جب اس نے اسے ذبح کیا تو اپنے والد، بھائی اور رشتہ داروں کو دیا، کیا یہ جائز ہے، یا اسے پورا عقیقہ غریبوں کو دینا چاہیے؟ کیا اس پر دوسری عقیقہ ذبح کرنا اور اسے مکمل طور پر غریبوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: عقیقہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک قربانی ہے، اس میں آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں جیسے کہ کھانا دینا یا کھانا یا تقسیم کرنا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔