جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: عقائد کی قطعی یا متفق علیہ اصولوں میں اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے، جبکہ ظنی عقائد کی فروع میں علماء کے لیے اجتہاد کرنا جائز ہے، جیسے: حوض کا مقام اور کوثر کیا ہے، صراط کی شکل، اور اہل فترت کا حکم وغیرہ، اور ان میں اجتہاد اس لیے جائز ہے کہ یا تو ان میں نص ظنی ہے، یا نص بالکل نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.