عذاب کی جگہوں کی زیارت عبرت کے لیے

سوال
آپ نے کہا کہ عذاب زدہ مقامات کی زیارت بلا قید جائز ہے، اور جب میں نے آپ سے ان احادیث کے بارے میں پوچھا جو عذاب زدہ مقامات کی زیارت سے منع کرتی ہیں تو آپ نے کہا کہ یہ احادیث حرمت کا معنی نہیں رکھتیں، بلکہ یہ اس بات کی قید ہیں کہ ان مقامات کی زیارت نصیحت اور عبرت کے لیے ہونی چاہیے جو ان اقوام پر گزری۔ تو آپ کا دوسرا بیان زیارت کو قید کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ اسے بلا قید کرنے کی طرف، پھر عذاب زدہ مقامات کی عام لوگوں کے لیے زیارت کی اجازت دینا عبرت اور نصیحت کا ماحول ختم کر دیتا ہے؛ کیونکہ عام لوگ سیاحت اور خوشی کے لیے زیارت کرتے ہیں نہ کہ نصیحت اور عبرت کے لیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: عام لوگ اپنی زندگی میں اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، یہ صرف سیاحت تک محدود نہیں ہے، اور ہمیں ان کی مسلسل یاد دہانی کرانی چاہیے کہ ان کے ارد گرد ہر چیز میں اللہ کی طرف اشارہ کرنے اور اپنے ایمان میں اضافہ کرنے کے لیے نصیحت اور عبرت حاصل کریں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں