سوال
کیا یہ شرط ہے کہ عدت والی عورت کو اپنی عدت کی پوری مدت اپنے شوہر کے گھر میں گزارنی چاہیے، جبکہ اس کا شوہر کا گھر ایک صوبے میں ہے اور اس کے والدین کا گھر دوسرے صوبے میں ہے؟ کیا وہ پہلے دو ہفتے اپنے شوہر کے گھر گزار سکتی ہے اور اگر وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت مکمل نہیں کر سکتی تو کیا وہ اپنے والدین کے گھر منتقل ہو سکتی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اسے شوہر کے گھر میں عدت گزارنی چاہیے، مگر اگر اسے وہاں فتنہ کا خوف ہو تو وہ اپنے والدین کے گھر منتقل ہو سکتی ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔